کہتے ہیں ایک شیخ بہت غریب تھا مفلسی سے برا حال .کام آتا تھا نہ کوئی اس سے کام لینے کے لیے تیار تھا چنانچہ بیچارے کے دن بہت پرشانی اور غربت میں گزر رہے تھے ...ایک دن شیخ کھیت سے گزار رہا تھا کہ اس نے ایک مرغی دیکھی جو سونے کا انڈا دے رہی تھی شیخ نے مرغی کا سونے کا انڈا دیکھا تو بہت حیران ہوا اور خوش بھی اس نے اس مرغی کو پکڑنے کا فیصلہ کیا .چنانچہ وہ مرغی کے پیچھے دوڑ پڑا اور مرغی کو جا پکڑا .
اب جب مرغی ہاتھ آئی شیخ کو اس پر یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ سونے کی مرغی اس کے ہاتھ آ گئی ہے وہ اسے خوش خوش گھر لے آیا .اور بڑے احترام محبت سے اسے گھر میں پالنے پوسنے لگا ...روز اس کی منتے کرتا اور سونے کا انڈا حاصل کرتا .اور انڈا بیچ کر بہت سے پیسے کماتا یوں شیخ کےاور اس کے گھر والوں کے مفلسی کے دن بدلنے لگے .اور شیخ بڑے بڑے عالیشان گھر بنانے لگا ....ایک دن شیخ نے سوچا یہ مرغی تو ایک دن میں ایک انڈا دیتی ہے .اور ایک انڈے سے گزارہ کرنا بہت مشکل ہے میں اور امیر بنانا چاہتا ہوں .جلد سے جلد چنانچہ شیخ
شیخ کے دل میں لالچ پیدا ہونا شروع ہو گیا .اب جب روز مرغی ایک انڈا دیتی وہی مرغی جو کل تک اسے اچھی لگتی تھی انڈا حاصل کر کے اسے خوش ہوتی تھی بہت بری لگنے لگی .وہ روزانہ جب بھی مرغی سے انڈا حاصل کرنے جاتا .مرغی کو ڈانٹتا کہ وہ ایک انڈا کیوں دیتی ہے زیادہ انڈے دیا کرے .پھر یہ ہوا کہ وہ مرغی کے سونے کے چمکتے انڈوں سے نقص نکالنے لگا .اور نوبت مار کٹائی تک ان پہنچی .شیخ مرغی کو مارتا .گالیاں دیتا طرح طرح کے ہتکنڈوں اور پابندیوں سے اسے ٹارچر کرتا .کہ کسی طرح وہ زیادہ انڈے دینا شروع کر دے ....
ایک دن شیخ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اس کے دل میں خیال آیا کیوں نا اس مرغی کو ایک ہی دفعہ ذبح کر کے سارے انڈے حاصل کر لیے جائیں ..پھر کیا تھا -شیخ کی آنکھیں دل لالچ حواس بغض سے بھر گیں .اس نے چھری اٹھائی .اور آدھی رات کے قریب جب مرغی بے چاری ڈربے میں سو رہی تھی .اس کے سر پر جا پہنچا اور مرغی تو پکڑ کر ذبح کر ڈالا ....سچ ہے عقل میں پردے پڑ جائیں تو کچھ اچھی باتیں نہیں سوج پاتیں مرغی کے پیٹ سے کچھ نا نکل سکا .اور شیخ کے ہاتھ سے بھی سب کچھ نکل گیا .اب وہی غربت بدحالی کے دن شروع ہو گے
میں سعودی عرب کے حالت پر زیادہ تبصرہ نہیں کرتا جو کچھ کالے قانون کے نام پر یہاں ہو رہا ہے یہ تصویر کافی ہے ......سعودی عرب کے خلافت عثمانیہ کی تباہی میں جو کردار رہا ہے اس وقت سے لے کر آج تک جو کچھ ان عربوں نے وطن پرستی کے نام پر گل کھیلائے ہیں اس سے سب واقف ہیں
ترک فوجیوں کو حرم کے اندر جس انداز میں مشرک قرار دے کر ذبح کیا جاتا رہا ہے .وہ ایک الگ تاریخ ہے اس کی تازہ مِثآل سوات اور وزیرستان میں ملنے والی ذبح کی ہوئی سرکٹی لاشیں کافی ہیں جنھیں کے سر ہاتھوں میں پکڑ کر را کے چیلوں کے ہاتھوں فخریہ تصویریں کھینچوائی جاتی رہی ہیں
***********************************
آگے ہی امت مسلمہ سعودی عرب کی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے، کہا جا رہا ہے کہ شیعہ جاسوسوں کی گرفتاری کی خاطر سعودی عرب میں وسیع آپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس بات میں کتنی حقیقت ہے یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے، مگر درج ذیل باتیں تو حقیقت پر مبنی ہیں جن سے سعودی عرب سے شدید اختلاف ہے۔
مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کی توسیع کا عمل یقیناً قابل تحسین ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر موجود تمام مقامات جو تاریخی اعتبار سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین یا دیگر مبارک ہستیوں سے منسوب شدہ ہیں، انہیں مسمار کر کے وہاں دیو ہیکل عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔۔۔۔ (اس میں کسی ایرانی شیعے یا جاسوس کی سازش شامل نہیں ہے)
مسجد نبوی (ص) کی توسیع کا عمل زیر بحث آیا، وہاں کے لئے مختلف نقشے سامنے لائے گئے، اس میں ایک نقشہ ایسا بھی تھا جس میں توسیع موجودہ مسجد نبوی سے دائیں اور اس سے تین گنا آگے کی جانب دکھائی گئی تھی، یعنی وہی شخص پرانی مسجد میں نماز پڑھ سکتا تھا جو اتفاقاً جماعت کے دوران جگہ بھرنے سے وہاں پہنچ جاتا۔۔۔۔ سعودی عرب کے فرمانرواں کو شاید ان کے مشیروں نے کہا ہوگا یا خود ان کی عقل میں جو بات آئی، انہیں دستخط اسی نقشے پر کئے۔۔۔۔ ابھی کچھ دن قبل مختلف حلقوں میں اس عمل کے خلاف آواز اٹھائی گئی تب احساس ہوا کہ یہ غلط اقدام ہے پھر دوسرے نقشے کو پاس کیا گیا۔ (اس عمل میں بھی کسی شیعہ تنظیم کا ہاتھ نہیں)۔
یمن کے ساتھ اس وقت سعودی عرب کی شدید جھڑپ جاری ہے، وجہ یہ ہے کہ یمن میں تیل کے وسیع ذخائر برآمد ہوئے ہیں، اور وہ علاقہ سعودی عرب اور یمن کی سرحد پر واقع ہے، یمن کا دعوہ ہے کہ وہ علاقہ چونکہ یمن میں 20 کیلومیٹر اندر ہے اس لئے ان کی ملکیت ہے، جبکہ سعودی عرب کی کوشش ہے کسی طرح سے معاہدے سے وہ علاقہ حاصل کر لیا جائے، یمن کے انکار کی وجہ سے سعودی عرب یمن کے شدید مخالف ہو گیا ہے، گزشتہ کچھ عرصہ سے وہاں سعودی اور یمن کی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے۔۔۔ سعودی عرب زبردستی اس علاقے کا حصول چاہتا ہے، (اس عمل میں بھی کسی ایرانی شیعہ تنظیم کا ہاتھ نہیں)
اگر کسی غیر ملکی کا خدا نا خواستہ سعودی کے ساتھ کسی بھی بنا پر جھگڑا یا کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو قانون کے رکھوالے بہت گرم جوشی سے سعودیوں کی طرف داری کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ راہ چلتے کوئی سعودی لڑکا پتھر مار کر گاڑی کا شیشہ توڑ دے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے جبکہ اس کے برعکس مساجد میں یقینا اخوت اور مساوات کا سبق دیا جاتا ہے۔ (اس عمل میں کسی شیعہ تنظیم کا کوئی ہاتھ نہیں ہے)
سعودی عرب امریکہ کے آگے بھی کیوں بے بس ہے ؟
پیرس کی سڑک شانے لیزے دنیا کی مہنگی ترین شاہراہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ سڑک بنیادی طور پر ایک کھلا بازار ہے۔ سڑک کے دونوں کناروں پر بڑی بڑی دکانیں اور شاپنگ سنٹر ہیں۔
اس سڑک کی 90 فیصد عمارتیں عربوں کی ملکیت ہیں۔ اس کے علاوہ پیرس کے مضافات میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر عربوں کے محلات اور فارم ایریا ہیں۔ اسی دور میں یورپ میں جوا خانوں، شراب خانوں اور دیگر ہوٹلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کاروبار میں بھی عربوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں اس غلیظ کاروبار میں ملوث کر دیا گیا۔ صرف بریطانیہ میں مسلمانوں کے چار ہزار کے قریب شراب خانے ہیں۔ جبکہ امریکہ میں عربوں کا حصہ 73 فیصد ہے۔ امریکہ میں عربوں کی سرمایا کاری 3 کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔ صرف شاہی خاندان کے ایک ارب ڈالرامریکہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ (اس عمل میں کسی شیعہ یا کسی ایرانی کا ہاتھ نہیں)
گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ میں مہنگائی کا سیلاب آ گیا۔ ڈالر کی قیمت گر گئی۔ پیداوار کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ اس وقت ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ عرب تیل کی سپلائی کم کر کے امریکہ کو مزید دھچکا پہنچاتے، لیکن اس کے برعکس سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں 5 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کر دیا۔ اس اضافے سے امریکہ میں تیل کی قیمتیں 28 ڈالر سے گر کر 20 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ڈالر کی قیمت میں استحکام آ گیا، مہنگائی کا رجحان کم ہو گیا اور امریکی معیشت کو سہارا مل گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے ایسا کیوں کیا ؟؟ جواب بڑا سیدھا ہے امریکی انڈسٹری میں سعودی عرب کے پیسے لگے ہوئے ہیں۔ اگر امریکی کمپنیاں دیوالیہ ہو جاتیں تو سعودی عرب کے شہزادوں کی جان نکل جاتی۔ اب اس صورت حال کا دوسری طرح جائزہ لیں۔ عربوں کی ساری دولت یورپ اور امریکہ میں دھنس چکی ہے۔ سعودی شاہی خاندان کے ایک کھرب ڈالر امریکہ کی مختلف کمپنیوں میں جمع ہیں۔ یہ رقم مرحوم شاہ فیصل کے دو صاحبزادوں شاہ فہد کے بھائی پرنس سلطان کی سرمایہ کار کمپنیوں نے امریکہ میں لگا رکھی ہیں۔ (اس عمل میں کسی شیعے یا جاسوس کا ہاتھ نہی
No comments:
Post a Comment